Posts

A quiet place

Image
Movie : A quiet place. Genre :Horror suspense بے شعوری پر قائم حیوانی بے نظمی ہو یا شعوری بلندی پر کھڑے انسان کا نظم و ضبط ہو، دونوں دنیاؤں میں کسی بھی سطح پر خوبی وجودی بقاء کیلئے بڑا خطرہ بنتی ہے.. جنگل کے قانون میں آپ تب تک محفوظ ہیں جب تک آپ کسی بھی جانور کی غذا نہیں بن سکتے اگر آپ کسی کی غذا بننے کی اہلیت رکھتے ہیں تو چیونٹی سے لے کر شیر تک آپ پر پل پڑتا ہے.. انسانوں کے معاشرے میں اگر آپ مثلا ایک خوبصورت لڑکی ہیں تو ہر مرد درندہ اور آپ ا یک شکار سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں.... لیکن فرض کیجیے ایک ایسی دنیا کا جہاں آپ کی وہ صلاحیت آپ کی دشمن بن جائے جو ہر انسان کو حاصل ہے... گویائی ،قوتِ نطق، آواز... یہی آواز پیدا کرنے کی صلاحیت آپ کی دشمن بنتی ہے ایک ایسا عفریت دنیا پر حملہ آور ہوچکا ہے جو اندھا ہے لیکن بہرہ نہیں، جو میلوں دور سے انسانی یا میکانیکی اصوات کے ارتعاش کو محسوس کرکے پلک جھپک کے لمحے میں حملہ آور ہوکر اپنے شکار کو نابود کر دیتا ہے... یہ تخیل بہت جاندار اور اس خیال پر اگر ہالی وڈ کوئی فلم بناتا ہے تو اس کو شاندار ہونا چاہیے تھا... لیکن یوں نہ تھا.. بہت اشتیاق سے...

علاء الدین خلجی اور رانی پدماوتی تاریخی حقائق کیا کہتے ہیں؟

Image
علاء الدین خلجی اور رانی پدماوتی تاریخی حقائق کیا کہتے ہیں؟ حال ہی میں ہندوستان کے مشہور فلم ڈائریکٹر سنجے لیلابھنسالی نے ہندوستان پر حکومت کرنے والے آٹھویں صدی ہجری کے مسلم حکم راں علاء الدین خلجی کے راجستھان کے قلعہ چتوڑ پر حملے سے متعلق ایک فلم بنائی ہے، جس میں کہانی نویس نے علاء الدین خلجی کو ایک وحشی اور ظالم حکم راں کے طور پر دکھایا ہے جو کہ چتوڑ پر حملہ وہاں ک ے راجہ رتن سین کی دوسری رانی پدماوتی کی خوب صورتی کا سن کر اس کو پانے کے لیے کرتا ہے۔ پہلی بات تو یہ یاد رہے کہ علاء الدین خلجی کا چتوڑ پر حملہ صرف اور صرف میواڑ کو دہلی سلطنت کا باج گزار بنانے کے لیے تھا۔ اس کے پیچھے کسی رانی کو پانے کا کوئی خواب یا مقصد کسی ہم عصر مورخ نے کبھی بیان نہیں کیا۔ جناب امیر خسرو جو کہ علاء الدین خلجی کے ساتھ اس لشکر میں شامل تھے جو کہ چتوڑ کا قلعہ فتح کرنے گیا تھا اور جنھوں نے چتوڑ پر حملے کی پوری داستان کو اپنی تصنیف خزائن الفتوح میں بیان کیا ہے، وہ چتوڑ پر حملے کی ایسی کوئی وجہ نہیں لکھتے۔ تاریخ فیروز شاہی کے مولف جناب ضیاء الدین برنی جو کہ چتوڑ کے محاصرے کے وقت جوان ...

Ibiza

Image
Film:  Ibiza Genre: Romantic comedy Year: 2018 Writer: Lauryn Kahn  Director:  Alex Richanbach Cast:  Gillian Jacobs, Vanessa Bayer, Phoebe Robinson, Richard Madden, Michaela Watkins, Jordi Molla بہترین دوست ہارپر (گلین یعقوب)، نکی (وینیسا بیئر) اور لیہ (فابی رابنسن) نے مینہٹن کو اسپین میں ایک جنگلی اختتام ہفتہ کے لئے ڈالا ہے جہاں وہ 10 الفاظ ہر لڑکی کے ساتھ خیر مقدم کیا جائے گا. سننا چاہتی ہے: "برائے مہربانی اپنے آپ کو کھانے، مشروبات اور آنکھیں کھولنے والے جنسی تجربات کے ساتھ خدمت کریں." یہ سلامتی امیر حواس مالک ہرنانڈو (Jordi Mollà) ، ایک فٹ بال ٹیم کے قابل ہونے والوں میں سے ایک ہے جو امریکیوں کو لے جانے کے قابل ہو بستر پر. مرد آتے ہیں اور ایک پریشانی آزادی کے ساتھ جاتے ہیں، عام رومانٹک مزاحیہ کی ظاہری قسمت نہیں. ایک سکاٹش ڈیجیٹل پر ہیکر کے لیزر فاکس کے نام سے لیو (رچرڈ میڈن، بالکمل پیشانی اور بال کے حساس طور پر) کے نام سے ان کی چھٹیوں کو بارسلونا سے مہاکاوی پارٹی کے جزیرے پر ریفروش کرنے کا حوصلہ افزائی کرتا ہے. اسے ایک نائٹ کلب بھر می...

Before Sunrise

Image
Film: Before Sunrise Year: 1995 Writer:  Richard Linklater,  Kim Krizan  Director: Richard Linklater Cast: Ethan Hawke ,  Hanno Pöschl, Julie Delpy ,  Andrea Eckert کچھ کہانیاں ادھوری اچھی لگتی ہیں کچھ کہانیوں کا اختتام نہیں ہوتاکیوں کہ ادھورا پن اس زندگی کی بھی صفت ہے،اپنی زندگی میں ہم ہزاروں لوگوں سے ملتے ہیں کچھ کے ساتھ تعلق بوڑھا اور بے رونق ہو جانے کے باوجود تعلق کا بوجھ اٹھائےرکھنا پڑتا ہےاورکچھ لوگ چند ملاقاتوں یا لمحوں میں ہی انمٹ نقوش چھوڑجاتے ہیں اور زندگی بھردل کی البم کے ایک گوشے میں حسین پھول آپ کی   خوشگوار یادوں کومہکاتے رہتے ہیں۔ ایک لمحے کی جھلک کبھی کبھی ہمیں کسی کے اندر مقناطیسیت محسوس کروا دیتی ہے اور ایک مقدس روشنی کی   جھلک نظر آجاتی ہےاور صرف دل کی سننے والے ہی ایسے جذبوں کو محسوس کر سکتے ہیں،،،، ایک اجنبی سرزمین پر دو انجان مسافر ملتے ہیں اور ایک دوجے کی کشش کو محسوس کرتے ہیں پیش قدمی ہوتی ہے اور ٹرین کا سفرایک خوشگوار ملاقات میں ڈھل جاتاہےاور ٹرین کے اگلے سٹیشن پر یعنی ویانا میں ...

Fetih 1453

Image
Film: Fetih 1453 Year: 2012 Writer:  Director: Faruk Aksoy Cast:  Devrim Evin,  Ibrahim Celikkol,  Dilek Serbest,  Cengiz Coskun. حضور پاک صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو بشارت دی تھی کہ " تم ضرور ایک دن قسطنطنیہ فتح کر لو گے ،پس بہتر  امیر اس کا امیر ہوگا اور بہترین وہ لشکر ہوگا "  یہی فرمان عالیشان تھا جس نے ہر دور میں مسلمان فاتحین کو قسطنطنیہ فتح کرنے کا پروانہ بنائے رکھا خلافت راشدہ کے دور سے ہی ہر مسلمان سپہ سالار کا خواب قسطنطنیہ فتح کرنا ہی تھا ان مہمات میں کئی عظیم صحابہ کرام شامل رہے ،  حضرت عمر بن عبد العزیز، ہشام بن مالک ، مہدی عباسی اور ہارون الرشید جیسے عظیم خلفا نے بھی اس شہر کو فتح کرن ے کے لیے پرزور حملے کیئے مگر قسطنطنیہ ناقابل تسخیر رہا اور عیسائیت کا یہ عقیدہ ہوگیا کہ یہ شہر کبھی فتح نہیں کیا جاسکتا یہ شہر عیسائیوں کا روحانی مرکز بھی تھا اور اسے ایک روحانی قلعہ کی حیثیت حاصل ہوگئی تھی۔   قسطنطنیہ کے تین اطراف میں سمندر تھا صرف ایک حصہ خشکی تھی شہر کے گرد چودہ میل ایک مضبوط فصیل تھی ...

The Prestige

Image
Movie :  The Prestige Director: Chirstopher Nolan. Actors: Hugh jackman , Christian bale, scarlet Johnson. اگر فلم کی صرف کاسٹ دیکھی جائی تو ھالی ووڈ کے آسمان کے تین چمکتے ستارے جن کے نام پڑھ کر میں نے فلم کو ڈائون لوڈ کرنا شروع کردیا مگر پھر جب ڈائریکٹر کا نام دیکھا تو اوسان خطا ہوگئے کہ بھائی آج تو مست فلم ہاتھ آئی ہے اور یقین مانیئے جب تک پوری ڈائون لوڈ نہ ہوئی تب تک کوئی بیس مرتبا میں نے اسی چیک کیا کہ کب انتظار کی گھڑیاں ختم ہونگی اور میں یہ شاہکار دیکھ پائونگا ۔ اور سچ پوچھیں یہ نولن بابا کی ڈائریکشن کا کمال ہے کہ فلم کی پکڑ کو کہیں بھی ڈھیلا نہیں چھوڑتا جو دیکھنے والے کو بوریت محسوس ہو دو گھنٹے کی فلم کب اختتام کو پہنچی پتا ہی نہ چلا۔ انیسویں صدی کہتے ہیں کہ سائنسی ایجادات کی صدی تھی جب سائنس کے میدان میں بڑے بڑے لوگ جھنڈے گاڑ رہے تھے وہیں پے کچھ لوگ اپنی ہاتھ کی صفائی، شعبدہ بازی اور آنکھوں کو دوکھا دینے والے جادوئی ترکیبوں سے لوگوں کا دل جیت رہے تھے اور یہ انکا ذریعہ معاش بھی بنا ہوا تھا روز کچھ نیا سوچنا اور دنیا کو وہ نیا کر دکھانا اور د...

A Quiet Place

Image
Movie : A quiet place. Genre :Horror suspense شاید آپ نے تاریخ کے کتابوں میں آوارہ گردی کرتے ہوئے کہیں گنگ محل کا نام پڑھا یا سنا ہو ۔  جی ہاں وہ ہی گنگ محل جو ھندستان کے کسی مسلم حکمران نے بنایا تھا جس کی خاص بات محل کی خاموشی تھی رات سے کالی اور موت سے بھیانک خاموشی ۔ اس محل میں کوئی 17000 کے قریب ملازم تھے مگر مجال ہے جو کبھی کسی نے کوئی آواز بھی نکالی ہو اور جب اس گنگ محل سے ان ملازم لوگوں کو آزادی ملی تھی تو وہ گونگے ہو چکے تھے کیونکہ اس محل میں آواز کرنے والے شخص کی یا تو زبان کاٹی جاتی تھی یا پھر موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا تھا۔  یہ کہانی بھی کچھ ویسی ہی ہے اک آنجہانی مخلوق جو قانون کی طرح اندھی ہے مگر دیواروں سے کان ہیں اس کے جو ہونٹوں سے گرے ہوئے ہر لفظ کو سن لیتی ہے اور ان لفظوں کی سزا موت ہے صرف موت ۔ اگر جینا ہے تو ہونٹوں کو سی لو زبان کو کاٹ ڈالو  اگر جینے کیلئے چلنا ہے تو ننگے پاوں چلو ، پاوں تلے ریت بچھا کے چلو کیونکہ یہ آپ کی اہٹ سننے کو بے تاب ہیں اور جہاں پے بھی ذرا آہٹ ہوئی وہ اندھی موت وہاں لمحے میں پہنچ کر اپنا شکار کر...