Fetih 1453


Image result for fetih 1453

Film: Fetih 1453
Year: 2012
Writer: 
Director: Faruk Aksoy
Cast: Devrim Evin, Ibrahim Celikkol, Dilek Serbest, Cengiz Coskun.

حضور پاک صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو بشارت دی تھی کہ " تم ضرور ایک دن قسطنطنیہ فتح کر لو گے ،پس بہتر امیر اس کا امیر ہوگا اور بہترین وہ لشکر ہوگا " یہی فرمان عالیشان تھا جس نے ہر دور میں مسلمان فاتحین کو قسطنطنیہ فتح کرنے کا پروانہ بنائے رکھا خلافت راشدہ کے دور سے ہی ہر مسلمان سپہ سالار کا خواب قسطنطنیہ فتح کرنا ہی تھا ان مہمات میں کئی عظیم صحابہ کرام شامل رہے ، حضرت عمر بن عبد العزیز، ہشام بن مالک ، مہدی عباسی اور ہارون الرشید جیسے عظیم خلفا نے بھی اس شہر کو فتح کرنے کے لیے پرزور حملے کیئے مگر قسطنطنیہ ناقابل تسخیر رہا اور عیسائیت کا یہ عقیدہ ہوگیا کہ یہ شہر کبھی فتح نہیں کیا جاسکتا یہ شہر عیسائیوں کا روحانی مرکز بھی تھا اور اسے ایک روحانی قلعہ کی حیثیت حاصل ہوگئی تھی۔



 قسطنطنیہ کے تین اطراف میں سمندر تھا صرف ایک حصہ خشکی تھی شہر کے گرد چودہ میل ایک مضبوط فصیل تھی جس پر ایک سو ستر فٹ کے طویل برج بنے تھے اس کے اندر بھی ایک فصیل بنی تھی ان فصیلوں کے بیچوں بیچ ایک گہری خندق بنی تھی جس کی چوڑائی 60فٹ اور گہرائی 100فٹ تھی اس قلعے نے تقریباً ایک لاکھ کی آبادی کو پناہ دے رکھی تھی یوں یہ شہر فتح کرنا ناممکن ہوگیا تھا ۔ مگر پھر حضور پاک کی بشارت کے مطابق دولت عثمانیہ کا ساتواں فرمانروا سلطان محمد فاتح اس قلعے کا فاتح بنا اور کیسے بنا یہ آپ کو اس ترکش فلم میں جسے فاروق اسروئے نے بڑی خوبصورتی سے عکسبند کیا ہے میں پتا چلے گی ، فلم میں اداکاری سینما ٹو گرافی میوزک ہر چیز لاجواب ہے IMDb پہ اس فلم کی ریٹنگ 7.1 ہے فلم کو مکمل طور پہ تاریخی تو نہیں کہا جاسکتا یقیناً 35.40 فیصد ڈرامہ بھی شامل ہے لیکن فلم دیکھتے وقت آپ خود عین اسی دور میں محسوس کریں گے اور ڈائریکٹر کو داد دینے پہ مجبور ہو جائیں گے۔ اس جنگ کی ایک خاص بات تھی جس پہ آج کی دنیا بھی حیران ہے وہ یہ کہ سلطانی لشکر اپنے بحری بیڑے کو تقریباً دس کلومیٹر خشکی اور چٹانی راستہ پر کھینچ کر قلعے کے قریب لے آئے تھے اور اسی عمل نے اس جنگ میں فیصلہ کن کردار ادا کیا ۔ لیکن ایک بات ہے یہ فتح مسلمانوں کے سنہرے دور کی آخری فتح تھی اور عیسائیت کی شائد آخری شکشت ۔ اسلامی دنیا کا یہ عظیم ہیرو آج بھی اسی شہر یعنی موجودہ استنبول کی ایک مسجد کے احاطے میں مدفون ہے۔ فلم کی زبان عربی ہے لیکن بڑی خوبصورت اردو ڈبنگ میں بھی دستیاب ہے۔ 
محمد تنویر

Comments

Popular posts from this blog

ویرے دی ویڈنگ

آوارگی

FURY: The Turning Point