Posts

Money Heist: Netflix Original Series

Image
Spanish Name : Lacasa De Papel یہ سیریز اپنے آپ میں ایک شاہکار ہے۔ ہم نے پروفیسر حضرات کو کالج میں دیکھا ہے یا یونیورسٹیز میں، بیچارے زندگی بھر ایک ہی پیشے سے منسلک رہتے ہیں اور اسی میں اپنی عمر گزار دیتے ہیں۔ پر ایک پروفیسر ایسا بھی تھا جس کے باپ نے ایک بینک لوٹنے کا پلان بنایا لیکن اس کو عملی جامہ پہنانے سے پہلے ہی اس فانی دنیا سے رخصت ہو گیا۔ اب جو چوری باپ نہ کر سکا وہ بیٹے کا مقصد حیات بن گیا۔ وہ اپنے باپ سے زیادہ مؤثر پلان بناتا ہے جس میں اسے 8 بندوں کی ٹیم چاہئے ہوتی ہے۔ وہ اس چوری میں کچھ اصول بناتا ہے اور سب کو اس کا پابند کرتا ہے۔ 1۔ بینک کوئی عام نہیں بلکہ وہ جگہ ہے جہاں کرنسی نوٹ چھاپے جاتے ہیں۔ 2۔ تمام ٹیم ممبرز ایک دوسرے کو ناموں کی بجائے کورڈ نیم سے جانتے اور پکارتے ہیں- وہ ایک دوسرے کی شناخت سے مکمل انجان ہوتے ہیں- 3۔ ٹیم ممبرز آپس میں کسی بھی قسم کا جذباتی رشتہ قائم نہیں کر سکتے۔ 4۔ ڈکیتی کے دوران کسی بھی طرح کی خونی لڑائی سے پرہیز کرنا ہے بغیر خون بہائے مشن مکمل کرنا ہے اور ساتھ میں 70 کے قریب لوگوں کو یرغمال بھی بنا کے رکھنا ہے۔ 5۔ پروفیسر پہ ہمیشہ بھ...

فلمی ناظرین

Image
فلمی ناظرین میری نظر میں دنیا میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں، پہلے وہ جو فلمیں دیکھتے ہیں اور دوسرے وہ جو فلمیں نہیں دیکھتے۔ اب فلمیں دیکھنے والوں میں مزید دو قسم کے لوگ ہیں، ایک وہ جن کی کوشش ہوتی ہے کہ ہر نئی آنے والی فلم سینما میں دیکھی جائے اور دوسرے وہ جو نجی و علاقائی وجوہات کے باعث فلمیں صرف چھوٹی سکرین پر ہی دیکھ پاتے ہیں۔ اب چونکہ عید کا تہوار ہے تو موویز پلینٹ نے اسپیشلی ان لوگوں کیلئے جو کسی بھی وجہ سے سینما نہیں جا پاتے کچھ ایسی موویز کا بندوبست کیا ہے جس سے نہ صرف ان حضرات کی عی د اچھی گزرے گی بلکہ انکے دماغ کے وہ بند تالے بھی کھلیں گے جن کی چابی ہی کھو چکی ہے۔ پیش خدمت ہے دنیا کی 5 بہترین "فکر انگیز" فلمیں!! فہرست: بلال قریشی پانچواں نمبر: (دی انوینش آف لائنگ) فلم میں وہ زمانہ دکھایا گیا ہے جب انسان جھوٹ نہیں بولتا تھا، کسی سے عضہ کرتا تھا تو منہ پر بتانے کی جرات بھی رکھتا تھا، لوگوں میں اک دوسرے کو ہر حد تک برداشت کرنے کی ہمت تھی، نفرت کا نام و نشان ہی نہیں تھا۔ سب کچھ ٹھیک چل رہا ہوتا ہے اور ایک شخص اس دنیا کا پہلا "جھوٹ" بولتا ہے اور کہانی نیا...

The Legend of Treasure island

Image
The Legend of Treasure island آج میں بات کرنے جا رہا ہوں اپنے بچپن کے سنہرے لمحات کی، جب دور تھا شکتی مان کا، جب لڑکے اور لڑکیاں ایک ساتھ کھیلا کرتے تھے لیکن کوئی منفی سوچ نہیں ہوا کرتی تھی، جب نا اتنا سینیما مشہور تھا اور موویز بھی کم ملتی تھی دیکھنے کو، جب ہمیں سکول جاتے وقت 5 روپے ملتے تھے اور ہم اتنے میں ہی خوش ہو جایا کرتے تھے، جب اتنی ٹیکنالوجی بھی نہیں تھی نا ہی ڈش کیبل وغیرہ تھیں، بس تھے تو اینٹینا کی مدد سے دو چار چینل اور وہ بھی ایک بندہ اینٹینا سیٹ کرنے جاتا ایک باہر کھڑا بندہ اسے بتا رہا ہوتا اور ایک اندر ٹی وی کے سامنے بیٹھا ہوتا پھر جا کر دو چار چینل ملتے، جب موٹے موٹے پیٹ والے ٹی وی ہوا کرتے تھے جو بنا تھپڑ کے مانا نہیں کرتے تھے، اور جب وی سی آر کا دور تھا، مجھے یاد ہے کہ وی سی آر پر مووی لگانی تو تھوڑی ٹھیک چلتی پھر لائنیں لائنیں آنا شروع ہو جاتی، باقی سب کا مجھے پتا نہیں لیکن ہمارے ساتھ بہت ظلم ہوتا تھا ہمیں صبح صبح جگا دیا جاتا تھا کہ چلو سپارہ پڑھنے، تو سپارہ پڑھ کر آنا تو اس کے بعد جب تک سکول جانے کا وقت نہیں ہو جاتا تھا تب تک ٹی وی کے سامنے بیٹھے رہتے، اس وق...

FURY: The Turning Point

Image
برصغیر کے لوگ چاھے کتنے بھی پڑھے لکھے کیوں نہ ہوں لیکن اکثریت کی انگلش فلمیں دیکھنے کی شروعات ہندی ڈبنگ سے ہی ہوتی ھے، لیکن ایک وقت ایسا آتا ھے جب ہمیں فلموں، ہدایتکاروں اور اداکاروں کی قدر ہو جاتی ھے اور ہم انگلش تو کیا دنیا کی کوئی بھی فلم اسی لینگویج میں دیکھتے ہیں جس لینگویج میں اسے فلمایا گیا ھے۔ اب چاہے وہ کورین ہوں، اٹالین ہوں، جرمن ہوں، فرینچ ہوں یا فارسی ہی کیوں نہ ہوں ایسی فلموں کو سبٹائ ٹل کے ساتھ دیکھنے کا اپنا ہی مزہ ھے۔ تو آج میں آپکو اپنے (موویز واچنگ) کیریئر کے ٹرننگ پوائنٹ کے بارے میں بتانے لگا ہوں (اگر آپکی لائف کا ایسا کوئی ٹرننگ پوائنٹ ھے تو ممبران کے ساتھ ضرور شیئر کریں)۔ ہندی فلموں کی لت تو بچپن سے ہی تھی ہر جمعرات ہمارے گھر 4 فلمیں اور وی سی آر آیا کرتا تھا جو پورے محلے کے لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر دیکھا کرتے تھے بچپن یوں ہی گزر گیا میٹرک میں پاؤں رکھے تو کمپیوٹر نے ہمارے گھر پاؤں رکھا اور یوں ڈی ایس ایل آر کی بدولت ہمارا ذوق اب ہندی سے انگلش فلموں کی طرف چلا گیا لیکن یہ معلوم نہ تھا کہ انگلش فلمیں انگلش میں بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔ وقت گزرتا گیا خود کا لیپٹاپ مل گی...

Parmanu: The Story of Pokhran

Image
سٹار کاسٹ: جان ابراہیم، دانا پینے، بوم ایرانی وغیرہ. ڈائریکٹر: ابشیر شرما پروڈیوسر: جان ابراہیم ہندوستانی فلم انڈسٹری میں تاریخی واقعات پر بہت کم فلمیں موجود ہیں جو رسمی طور پر تاریخ دیکھتے ہیں. کچھ فلموں کا اشتراک کیا گیا تھا، کچھ فلموں نے نسل پرستی کے بارے میں بھی کیا. کچھ ایسے گوریلا فلمیں جیسے '26 / 1 'یا' بلیک جمعہ 'جو اصلی واقعات میں قریب سے نظر آتے ہیں، فلم آگے بڑھتی ہوئی ایک ہی مثال ہے -' اتوم: کہانی کا پوکر '. یہ فلم، جوہری پروگرام کے بارے میں بھارت کے ایک واقعے کی اطلاع دینے کے بعد ہی ایک ہی کہانی ہے، یہ واقعی قابل قدر ہے. ان واقعات کی حمایت کرنے کے لئے کچھ افسانوی حروف لیا گیا ہے، لیکن یہ صرف ایک فارمولا میں واقعات کو پڑھنا ہے. جب بھارت نے 1974 میں اپنے پہلے ایٹمی آزمائش کا آغاز کیا، تو امریکہ نے ہم پر بہت سے اقتصادی اور سیاسی پابندیاں عائد کی تھیں. اس دوران، سوویت یونین کی تحلیل کے بعد، ہمیں کوئی بڑا ملک نہیں مل سکا. چین اور کئی طریقوں سے امریکہ بھارت کی سلامتی کے بارے میں تشویش کا موضوع بن رہا تھا. ایک ہی وقت میں، ہم...

ویرے دی ویڈنگ

Image
فلم "ویرے دی ویڈنگ " دیکھ لی... فلم وومن امپائرمنٹ پر تو بالکل نہیں بنی.. کیونک وومن امپائرمنٹ پر دنگل ، کوئین ، چک دے انڈیا اور حتی کہ شبانہ اعظمی کی ارتھ جیسی فلمیں بھی بن چکی ہیں.. اصل میں مجھے جاوید اختر کی ایک بات یاد آتی ہے کہ " ایک اچھی فلم لکھنے کیلیے ہزاروں کتابیں پڑھنا پڑتی ہیں..جبکہ آجکل کے لکھاری بس بغیر پڑھے ہی لکھے جا رہے ہیں.." میں یقین سے کہتا ہوں اس فلم کے رائٹر نے فلم لکھنے سے پہلے فیمینزم پر ایک ناول یا کتاب تک نہیں پڑھی ... فلم کو لے کر کے تمام حلقوں میں شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے.. مسلمانوں سے زیادہ ہندو فلم پر تنقید کر رہے ہیں..آئی ایم ڈی بی پر پانچ ہزار لوگ فلم کو ریٹ کر چکے ہیں..اور تباہ کن حد تک گھٹیا ریٹنگ ملی ہے... یعنی صرف دو سٹارز..اور ٹویٹر سمیت دیگر بلاگز پر برے برے ریویوز... انڈین ایکسپریس نے کچھ ٹویٹس اپنی ویب پر لگائیں..ان کا لب لباب یہ ہے.. محترم وکاش صاحب نے لکھا کہ فلم دیکھ کر لگا کہ کیسے گاوں کی عورتیں پانی کے ایک مشکیزے کی خاطر گالیاں دیتی ہیں..یہ فلم مغربی کلچر پر بیسڈ ہے.. ہندوستانی تہذیب و ثقافت سے اس...

آوارگی

Image
فلم: آوارگی اس کہانی کا نام تنہائ ہوتا تو بھی مجھے اعتراض نہ ہوتا کہ اس آوارگی کا اک سبب شاید تنہائ بھی ہے- جاوید اختر نے کیا خوب کہا ہے کہ "سایہ بھی ساتھ جب چھوڑ جاۓ ایسی ہے تنہائ"- آزاد (انیل کپور) بھی تنہائ کا شکار ہے- لالہ جمال (انوپم کھیر) کے اڈے پر بچپن سے جوانی کا سفر طے کرنے والا آزاد جو قیدی ہے تنہائ کا- جن کا کوئ نہ ہو وہ سڑک چھاپ بنتے ہیں لوگ انہیں آوارہ کہتے ہیں، یہ دھتکارے جاتے ہیں ان سے خوف زدہ تو رہا جاسکتا ہے لیکن ان کو اپنایا جانا تو دور انہیں کوی منہ لگانا روا نہیں رکھتا- یہ کہانی انہی لوگوں میں سے ایک آوارہ آزاد کی ہے- جسے بازاری عورت، سڑک چھاپ دوست، ہوٹل کا کھانا اور شراب سب کچھ تو میسر ہے لیکن کوئ کمی تھوڑی سی کسک رہ جاتی ہے۔ مکان اور گھر کا فرق تیر بن کے دل میں ترازو رہتا ہے۔ یہ کہانی ہے آزاد اور مینا (میناکشی) کی جسے کوٹھے کی زندگی سے آزادی دلا کہ اسے دنیا میں ایک باعزت مقام دلانا، اسے ایک کامیاب گلوکارہ بننا آزاد کی زندگی کا مقصد بن جاتا ہے۔ کہیں دل کے کسی کونے میں مینا کے لئے محبت بھی جاگ جاتی ہے۔ لیکن اس کے اظہار سے پہلے دھریندر (گوندا) مینا...