آوارگی

Image result for awargi film


فلم: آوارگی
اس کہانی کا نام تنہائ ہوتا تو بھی مجھے اعتراض نہ ہوتا کہ اس آوارگی کا اک سبب شاید تنہائ بھی ہے- جاوید اختر نے کیا خوب کہا ہے کہ "سایہ بھی ساتھ جب چھوڑ جاۓ ایسی ہے تنہائ"- آزاد (انیل کپور) بھی تنہائ کا شکار ہے- لالہ جمال (انوپم کھیر) کے اڈے پر بچپن سے جوانی کا سفر طے کرنے والا آزاد جو قیدی ہے تنہائ کا- جن کا کوئ نہ ہو وہ سڑک چھاپ بنتے ہیں لوگ انہیں آوارہ کہتے ہیں، یہ دھتکارے جاتے ہیں ان سے خوف زدہ تو رہا جاسکتا ہے لیکن ان کو اپنایا جانا تو دور انہیں کوی منہ لگانا روا نہیں رکھتا- یہ کہانی انہی لوگوں میں سے ایک آوارہ آزاد کی ہے- جسے بازاری عورت، سڑک چھاپ دوست، ہوٹل کا کھانا اور شراب سب کچھ تو میسر ہے لیکن کوئ کمی تھوڑی سی کسک رہ جاتی ہے۔ مکان اور گھر کا فرق تیر بن کے دل میں ترازو رہتا ہے۔ یہ کہانی ہے آزاد اور مینا (میناکشی) کی جسے کوٹھے کی زندگی سے آزادی دلا کہ اسے دنیا میں ایک باعزت مقام دلانا، اسے ایک کامیاب گلوکارہ بننا آزاد کی زندگی کا مقصد بن جاتا ہے۔ کہیں دل کے کسی کونے میں مینا کے لئے محبت بھی جاگ جاتی ہے۔ لیکن اس کے اظہار سے پہلے دھریندر (گوندا) مینا کے ساتھی گلوکار کی صورت میں سامنے آتا ہے اور مینا اسے دل بیٹھتی ہے۔ یہیں سے یہ کہانی ایک مثلث کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔ جس کے ایک کونے پر آزاد مینا کی محبت میں مبتلا تو دوسری جانب مینا کے دل میں آزد کے لئے عزت تو ہے کہ وہ اس کے احسانوں تلے دبی ہے لیکن محبت دھریندر سے کرتی ہے۔ تیسری طرف دھریندر جو مینا کو سچ بول کہ تینوں زندگیوں کو داؤ لگانے سے روکنا چاہتا ہے۔ آزاد خود چکی کے دو پاٹوں میں پسا جاتا ہے کہ ایک طرف مینا اور دھریندر اور دوسری طرف جرائم کی دنیا سے وابستگی- کہانی جذبات سے لبالب ایک پر تشدد داستانِ عشق بن جاتی ہے- تقریبآ دو گھنٹے بیس منٹ دورانیے کی یہ فلم ناظر کو اپنے اندر سمو لینے کی اچھی خاصی طاقت رکھتی ہے- اس فلم کی ایک خاص بات کہ اس کے دوران آپ کی آنکھیں اک اداسی بھری نمی کا شکار رہتی ہیں-
Image result for awargi film
انیل کپور آزاد کے روپ میں ایسا کام کر گیا جس کی بنیاد پر اسے انڈین فلموں کے بے تاج سڑک چھاپ شہنشاہ امیتابھ کے ہم پلہ قرار دیا جانے لگا۔ کلائمکس سے پہلے فون پر انیل کپور اور انوپم کھیر کی باتیں، آپ کے ذہن میں انمٹ نقوش چھوڑ دینے کےلئے کافی ہیں۔ جن دوستوں نے آوارگی دیکھی ہےانہیں یاد ہوگا "لالہ میں برباد ہوگیا،،"۔ میناکشی اس وقت کی ایک باصلاحیت اداکارہ تھیں جذباتی اداکاری میں لاجواب تھیں، یہاں بھی بہترین پرفارمنس دی۔ گوندا کی اداکاری ویسی ہی ہے جیسی ہوتی ہے؛ اچھی ہے، ٹھیک ہے، بری نہیں۔ لالہ کے کردار میں انوپم کھیر انیل کپور کے بعد فلم کے بہترین اداکار ہیں۔
بات کرتے ہیں فلم کے اصلی ہیرو یعنی ڈائریکٹر مہیش بھٹ کی۔ چھوٹے بجٹ میں، متوازی آرٹ سنیما کے انداز میں بننے والی اس کمرشل فلم کا اوریجنل ہیرو مہیش بھٹ ہی ہے۔ فلمز کے مختلف مناظر میں مہیش بھٹ کی مہریں ثبت نظر آتی ہیں۔ چاہے ابتدا میں آزاد کے گھر میں تنہائ کا عالم دکھایا ہو، یا لالہ اور آزاد کی آپس میں چپقلش یا کلائمکس سے پہلے آزاد اور مینا کا ڈرامہ۔ مہیش بھٹ نے خود کو منوایا ہے۔ فلم کیوں کہ فلم ہی ہے اس لئے اس میں فکشن تو اپنی جگہ موجود ہے لیکن پھر بھی ڈائریکٹر نے حتی الوسع حقیقت سے قریب تر رکھنے کی کوشش کی ہے۔ یہی مہیش بھٹ کی کامیابی بھی ہے۔
Image result for awargi film
میوزک انو ملک کا ہے۔ غلام علی کی آواز میں غزل کی طرز پر ترتیب دیا گیا ایک گیت "چمکتے چاند کو ٹوٹا ہوا تارہ بنا ڈالا،،" کمپوزیشن اور گائکی دونوں لحاظ سے البم ٹاپر ہے۔ اس کے علاوہ محمد عزیز اور لتا کی آوازوں میں "بالی عمر نے میرا حال وہ کیا ،،" نہایت عمدہ گیت ہے۔ اگر آپ ستر یا اسی کی دہائ کے انڈین گانوں کے شوقین ہیں تو اس فلم کے گانے سننے کے بعد آپ کو ایسا محسوس ہوگا جیسے موسیقی لکشمی کانت پیارے لعل کی ہے۔ لیکن جب آپ انو ملک کا نام پڑھتے ہیں تو حیرانگی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ انو ملک ایک ایسا موسیقار ہیں، جن سے آپ نوشاد سے لے کر پریتم تک جس بھی موسیقار کے انداز میں موسیقی تیار کروانا چاہیں وہ کر دیں گے (اور ناراض بھی نہیں ہوں گے)۔
سڑک چھاپوں، آوارہ سرشت لوگوں کی کئ کہانیاں فلموں کی صورت میں موجود ہیں۔ آوارگی بے شک ان میں سرِفہرست نہ ہو لیکن ایک معیاری تخلیق ہے۔ اپنی ریلیز کے موقع پر یہ ایک اوسط کامیاب فلم تھی لیکن آج اسے ناقد ایک کلاسک قرار دیتے ہیں۔ آپ کے اندر اگر کوئ آوارہ، راتوں کو جاگنے والا موجود ہے تو یہ فلم آپ کے لئے ہے- آپ نے دیکھی ہوئ ہے تو دوبارہ دیکھیں یقین کیجئے اس کا نشہ دوآتشہ ہے۔
محمد عادل

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

ویرے دی ویڈنگ

FURY: The Turning Point