Posts

FURY: The Turning Point

Image
برصغیر کے لوگ چاھے کتنے بھی پڑھے لکھے کیوں نہ ہوں لیکن اکثریت کی انگلش فلمیں دیکھنے کی شروعات ہندی ڈبنگ سے ہی ہوتی ھے، لیکن ایک وقت ایسا آتا ھے جب ہمیں فلموں، ہدایتکاروں اور اداکاروں کی قدر ہو جاتی ھے اور ہم انگلش تو کیا دنیا کی کوئی بھی فلم اسی لینگویج میں دیکھتے ہیں جس لینگویج میں اسے فلمایا گیا ھے۔ اب چاہے وہ کورین ہوں، اٹالین ہوں، جرمن ہوں، فرینچ ہوں یا فارسی ہی کیوں نہ ہوں ایسی فلموں کو سبٹائ ٹل کے ساتھ دیکھنے کا اپنا ہی مزہ ھے۔ تو آج میں آپکو اپنے (موویز واچنگ) کیریئر کے ٹرننگ پوائنٹ کے بارے میں بتانے لگا ہوں (اگر آپکی لائف کا ایسا کوئی ٹرننگ پوائنٹ ھے تو ممبران کے ساتھ ضرور شیئر کریں)۔ ہندی فلموں کی لت تو بچپن سے ہی تھی ہر جمعرات ہمارے گھر 4 فلمیں اور وی سی آر آیا کرتا تھا جو پورے محلے کے لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر دیکھا کرتے تھے بچپن یوں ہی گزر گیا میٹرک میں پاؤں رکھے تو کمپیوٹر نے ہمارے گھر پاؤں رکھا اور یوں ڈی ایس ایل آر کی بدولت ہمارا ذوق اب ہندی سے انگلش فلموں کی طرف چلا گیا لیکن یہ معلوم نہ تھا کہ انگلش فلمیں انگلش میں بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔ وقت گزرتا گیا خود کا لیپٹاپ مل گی...

Parmanu: The Story of Pokhran

Image
سٹار کاسٹ: جان ابراہیم، دانا پینے، بوم ایرانی وغیرہ. ڈائریکٹر: ابشیر شرما پروڈیوسر: جان ابراہیم ہندوستانی فلم انڈسٹری میں تاریخی واقعات پر بہت کم فلمیں موجود ہیں جو رسمی طور پر تاریخ دیکھتے ہیں. کچھ فلموں کا اشتراک کیا گیا تھا، کچھ فلموں نے نسل پرستی کے بارے میں بھی کیا. کچھ ایسے گوریلا فلمیں جیسے '26 / 1 'یا' بلیک جمعہ 'جو اصلی واقعات میں قریب سے نظر آتے ہیں، فلم آگے بڑھتی ہوئی ایک ہی مثال ہے -' اتوم: کہانی کا پوکر '. یہ فلم، جوہری پروگرام کے بارے میں بھارت کے ایک واقعے کی اطلاع دینے کے بعد ہی ایک ہی کہانی ہے، یہ واقعی قابل قدر ہے. ان واقعات کی حمایت کرنے کے لئے کچھ افسانوی حروف لیا گیا ہے، لیکن یہ صرف ایک فارمولا میں واقعات کو پڑھنا ہے. جب بھارت نے 1974 میں اپنے پہلے ایٹمی آزمائش کا آغاز کیا، تو امریکہ نے ہم پر بہت سے اقتصادی اور سیاسی پابندیاں عائد کی تھیں. اس دوران، سوویت یونین کی تحلیل کے بعد، ہمیں کوئی بڑا ملک نہیں مل سکا. چین اور کئی طریقوں سے امریکہ بھارت کی سلامتی کے بارے میں تشویش کا موضوع بن رہا تھا. ایک ہی وقت میں، ہم...

ویرے دی ویڈنگ

Image
فلم "ویرے دی ویڈنگ " دیکھ لی... فلم وومن امپائرمنٹ پر تو بالکل نہیں بنی.. کیونک وومن امپائرمنٹ پر دنگل ، کوئین ، چک دے انڈیا اور حتی کہ شبانہ اعظمی کی ارتھ جیسی فلمیں بھی بن چکی ہیں.. اصل میں مجھے جاوید اختر کی ایک بات یاد آتی ہے کہ " ایک اچھی فلم لکھنے کیلیے ہزاروں کتابیں پڑھنا پڑتی ہیں..جبکہ آجکل کے لکھاری بس بغیر پڑھے ہی لکھے جا رہے ہیں.." میں یقین سے کہتا ہوں اس فلم کے رائٹر نے فلم لکھنے سے پہلے فیمینزم پر ایک ناول یا کتاب تک نہیں پڑھی ... فلم کو لے کر کے تمام حلقوں میں شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے.. مسلمانوں سے زیادہ ہندو فلم پر تنقید کر رہے ہیں..آئی ایم ڈی بی پر پانچ ہزار لوگ فلم کو ریٹ کر چکے ہیں..اور تباہ کن حد تک گھٹیا ریٹنگ ملی ہے... یعنی صرف دو سٹارز..اور ٹویٹر سمیت دیگر بلاگز پر برے برے ریویوز... انڈین ایکسپریس نے کچھ ٹویٹس اپنی ویب پر لگائیں..ان کا لب لباب یہ ہے.. محترم وکاش صاحب نے لکھا کہ فلم دیکھ کر لگا کہ کیسے گاوں کی عورتیں پانی کے ایک مشکیزے کی خاطر گالیاں دیتی ہیں..یہ فلم مغربی کلچر پر بیسڈ ہے.. ہندوستانی تہذیب و ثقافت سے اس...

آوارگی

Image
فلم: آوارگی اس کہانی کا نام تنہائ ہوتا تو بھی مجھے اعتراض نہ ہوتا کہ اس آوارگی کا اک سبب شاید تنہائ بھی ہے- جاوید اختر نے کیا خوب کہا ہے کہ "سایہ بھی ساتھ جب چھوڑ جاۓ ایسی ہے تنہائ"- آزاد (انیل کپور) بھی تنہائ کا شکار ہے- لالہ جمال (انوپم کھیر) کے اڈے پر بچپن سے جوانی کا سفر طے کرنے والا آزاد جو قیدی ہے تنہائ کا- جن کا کوئ نہ ہو وہ سڑک چھاپ بنتے ہیں لوگ انہیں آوارہ کہتے ہیں، یہ دھتکارے جاتے ہیں ان سے خوف زدہ تو رہا جاسکتا ہے لیکن ان کو اپنایا جانا تو دور انہیں کوی منہ لگانا روا نہیں رکھتا- یہ کہانی انہی لوگوں میں سے ایک آوارہ آزاد کی ہے- جسے بازاری عورت، سڑک چھاپ دوست، ہوٹل کا کھانا اور شراب سب کچھ تو میسر ہے لیکن کوئ کمی تھوڑی سی کسک رہ جاتی ہے۔ مکان اور گھر کا فرق تیر بن کے دل میں ترازو رہتا ہے۔ یہ کہانی ہے آزاد اور مینا (میناکشی) کی جسے کوٹھے کی زندگی سے آزادی دلا کہ اسے دنیا میں ایک باعزت مقام دلانا، اسے ایک کامیاب گلوکارہ بننا آزاد کی زندگی کا مقصد بن جاتا ہے۔ کہیں دل کے کسی کونے میں مینا کے لئے محبت بھی جاگ جاتی ہے۔ لیکن اس کے اظہار سے پہلے دھریندر (گوندا) مینا...

Limitless

Image
سائنسدانوں کے مطابق عام انسان کا دماغ 100 میں سے صرف 7 سے 8 فیصد تک کام کرتا ھے۔۔ کچھ غیر معمولی لوگوں کا دماغ 11سے12 فیصد تک کام کرتا تھا جیسا کہ آئنسٹائن۔۔ لیکن سائنسدانوں کا کئی برسوں سے یہ دعویٰ بھی ہے کہ آنے والے وقت میں کچھ ایسی ادویات بنائی جائیں گی جس سے ایک عام انسان کا دماغ 100 فیصد تک کام کرے گا، یوں تو سوچ کر بھی حیرانگی ہوتی ہے اگر واقعی ایسا ہوگیا تو کیا ہوگا۔۔ خیر فی الحال تو یہ دعویٰ محظ ایک دعویٰ ہی ھے لیکن کچھ فلمیں دیکھ کر ای سا محسوس ہوتا ھے کہ کبھی نہ کبھی ایسی ڈرگ ضرور بنا لی جائے گی جن سے انسان کا دماغ 100 فیصد تک کام کرنے لگے گا۔۔ ایک معمولی سا رائٹر جو تین ماہ سے ایک کتاب لکھنے کی کوشش کر رھا ھے لیکن ایک صفحہ بھی نہیں لکھ پا رہا، جس کی ملاقات اپنے ایکس بہنوئی سے ہوتی ھے جو اسے ایسی دوا دیتا ھے جسے گورنمٹ نے پاس نہیں کیا کیونکہ وہ لوگوں کیلئے خطرہ بن سکتی ھے۔۔ یہ گولی انسانی دماغ کو چوبیس گھنٹے کیلئے 100 فیصد تک کام کرنے کی صلاحیت پیدا کر دیتی ھے۔۔ ایک معمولی سا رائٹر جو ایک گولی لینے کے بعد خود کو خدا سمجھنے لگتا ھے جب اگلے دن اٹھتا ھے تو دوا کا اثر...

A quiet place

Image
Movie : A quiet place. Genre :Horror suspense بے شعوری پر قائم حیوانی بے نظمی ہو یا شعوری بلندی پر کھڑے انسان کا نظم و ضبط ہو، دونوں دنیاؤں میں کسی بھی سطح پر خوبی وجودی بقاء کیلئے بڑا خطرہ بنتی ہے.. جنگل کے قانون میں آپ تب تک محفوظ ہیں جب تک آپ کسی بھی جانور کی غذا نہیں بن سکتے اگر آپ کسی کی غذا بننے کی اہلیت رکھتے ہیں تو چیونٹی سے لے کر شیر تک آپ پر پل پڑتا ہے.. انسانوں کے معاشرے میں اگر آپ مثلا ایک خوبصورت لڑکی ہیں تو ہر مرد درندہ اور آپ ا یک شکار سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں.... لیکن فرض کیجیے ایک ایسی دنیا کا جہاں آپ کی وہ صلاحیت آپ کی دشمن بن جائے جو ہر انسان کو حاصل ہے... گویائی ،قوتِ نطق، آواز... یہی آواز پیدا کرنے کی صلاحیت آپ کی دشمن بنتی ہے ایک ایسا عفریت دنیا پر حملہ آور ہوچکا ہے جو اندھا ہے لیکن بہرہ نہیں، جو میلوں دور سے انسانی یا میکانیکی اصوات کے ارتعاش کو محسوس کرکے پلک جھپک کے لمحے میں حملہ آور ہوکر اپنے شکار کو نابود کر دیتا ہے... یہ تخیل بہت جاندار اور اس خیال پر اگر ہالی وڈ کوئی فلم بناتا ہے تو اس کو شاندار ہونا چاہیے تھا... لیکن یوں نہ تھا.. بہت اشتیاق سے...

علاء الدین خلجی اور رانی پدماوتی تاریخی حقائق کیا کہتے ہیں؟

Image
علاء الدین خلجی اور رانی پدماوتی تاریخی حقائق کیا کہتے ہیں؟ حال ہی میں ہندوستان کے مشہور فلم ڈائریکٹر سنجے لیلابھنسالی نے ہندوستان پر حکومت کرنے والے آٹھویں صدی ہجری کے مسلم حکم راں علاء الدین خلجی کے راجستھان کے قلعہ چتوڑ پر حملے سے متعلق ایک فلم بنائی ہے، جس میں کہانی نویس نے علاء الدین خلجی کو ایک وحشی اور ظالم حکم راں کے طور پر دکھایا ہے جو کہ چتوڑ پر حملہ وہاں ک ے راجہ رتن سین کی دوسری رانی پدماوتی کی خوب صورتی کا سن کر اس کو پانے کے لیے کرتا ہے۔ پہلی بات تو یہ یاد رہے کہ علاء الدین خلجی کا چتوڑ پر حملہ صرف اور صرف میواڑ کو دہلی سلطنت کا باج گزار بنانے کے لیے تھا۔ اس کے پیچھے کسی رانی کو پانے کا کوئی خواب یا مقصد کسی ہم عصر مورخ نے کبھی بیان نہیں کیا۔ جناب امیر خسرو جو کہ علاء الدین خلجی کے ساتھ اس لشکر میں شامل تھے جو کہ چتوڑ کا قلعہ فتح کرنے گیا تھا اور جنھوں نے چتوڑ پر حملے کی پوری داستان کو اپنی تصنیف خزائن الفتوح میں بیان کیا ہے، وہ چتوڑ پر حملے کی ایسی کوئی وجہ نہیں لکھتے۔ تاریخ فیروز شاہی کے مولف جناب ضیاء الدین برنی جو کہ چتوڑ کے محاصرے کے وقت جوان ...